اگر مولا نا آزاد آج میدک آتے تو کیا محسوس کرتے؟
- Musaib Hussain

- Nov 12, 2025
- 4 min read
Updated: Nov 12, 2025

ہر سال 11 نومبر کو ہم مولا نا ابوالکلام آزاد کو یاد کرتے ہیں۔ وہ رہنما جنہوں نے ہندوستان کے تعلیمی نظام، فکری ماحول اور تہذیبی شعور کی بنیاد ڈالی۔ ان کے نزدیک تعلیم محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی اور فکری آزادی کا راستہ تھی۔ اسی تاریخی پس منظر کے ساتھ حال ہی میں ضلع میدک میں مولا نا آزاد کی یادگار قائم کی گئی۔ بظاہر یہ ایک قابلِ قدر عمل ہے؛ ایک ایسی کوشش جو ان کی خدمات کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں آنے والی نسلوں کے لیے نمایاں کرتی ہے۔ تاہم، ایسی یادگار محض علامت ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس علامت کے پیچھے موجود ذمہ داری کو بھی سمجھ رہے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر وہ آج میدک میں اپنی نئی تعمیر شدہ یادگار کے سامنے کھڑے ہوں تو وہ کیا محسوس کریں گے؟
وہ یادگار جس پر اُن کا نام اور تصویر کندہ ہے، بظاہر اُن کی یاد کا ایک نشان ہے۔ لیکن اس شان و شوکت کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے۔ ہم دعویٰ تو کرتے ہیں کہ آزاد کی میراث کو زندہ رکھتے ہیں، مگر اسی کے ساتھ ہم نے اُس زبان اور اُن اصولوں کو آہستہ آہستہ مرنے دیا جن کے تحفظ کے لیے آزاد نے اپنی پوری زندگی وقف کی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ آزاد کا نام اُن رہنماؤں کے ساتھ نہیں جچتا جن کی جماعتوں نے اُن کے اصولوں اور نظریات کو بارہا کمزور کیا ہے۔ سچ کہوں تو، میں مولا نا آزاد کی کوئی یادگار نہ ہونے کو ترجیح دوں گا، بہ نسبت اس کے کہ ہم اپنی مادری زبان اردو کی بتدریج موت کا تماشہ دیکھتے رہیں۔

میدک میں افتتاح کا منظر رسمی عزت و احترام سے بھرا ہوا تھا، تقاریراور تصویریں جوش و خروش کے ساتھ لئے جا رہے تھے۔ لیکن یادگار کے باہر کی حقیقت اس تقریب سے کہیں زیادہ توجہ کےحامِل ہے۔ وہ زبان جس نے مولا نا آزاد کی فکر کو بیان کیا، جو ہندوستانی مسلمانوں کی تہذیبی اور فکری شناخت رہی، اور جس کی بنیاد پر آزاد نے قومی ہم آہنگی اور علم کی تعمیر کا خواب دیکھا، اسی میدک میں وہ زبان آج کمزور پڑ رہی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ میدک کی صرف 6.44 فیصد آبادی اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر درج کرتی ہے۔ اگرچہ یہاں اردو میڈیم اسکول موجود ہیں، لیکن ان میں سے متعدد ادارے محدود سہولیات کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بعض اسکولوں میں ایک یا دو اساتذہ تمام درجات سنبھالتے ہیں، بنیادی تعلیمی وسائل کی کمی نمایاں ہے، اور نتیجتاً طلبہ بہتر مواقع کی تلاش میں دیگر میڈیمز کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ صورتحال صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی اور شناختی چیلنج بھی ہے۔ زبان کسی قوم کا حافظہ ہوتی ہے، اس کی سوچ، اس کے سوال، اس کی تاریخ اور اس کی دنیا کو دیکھنے کی صلاحیت اسی زبان کے ذریعے بنتی ہے۔ اگر وہی زبان کمزور کر دی جائے تو اس کے ساتھ فکر بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
اب تصور کیجیے کہ اگر مولا نا آزاد خود میدک کی اس یادگار کے سامنے کھڑے ہوتے۔ غالباً وہ چند لمحوں کے لیے اس تعظیم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے۔ لیکن فوراً ہی وہ اسکولوں کی طرف جاتے، طلبہ اور اساتذہ سے گفتگو کرتے، زبان کی حالت دیکھتے، اور اس حقیقت پر غور کرتے کہ ان کے نام پر تختی تو لگا دی گئی ہے لیکن ان کے فکری ورثے کو وہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کا وہ حق رکھتی ہے۔
شاید وہ خاموشی سے یہ سوال اٹھاتے: “اگر میری زبان کمزور پڑ رہی ہے، اگر علم اپنے مقصد سے دور ہو رہا ہے، اور اگر نوجوانوں کو اپنی شناخت سے دور کیا جا رہا ہے، تو یہ یادگار کیا معنی رکھتی ہے؟”
مولا نا آزاد کے نزدیک یادگار کا اصل مطلب یہ نہیں تھا کہ نام اور تصویر محفوظ ہو جائے۔ ان کے نزدیک اصل یادگار وہ تعلیمی ماحول ہے جس میں سوال کرنے کی آزادی ہو، زبان عزت پائے، اور علم character-building کا ذریعہ بنے۔ وہ یقیناً یہ یاد دلاتے کہ فکری ورثہ پتھر میں نہیں، ذہنوں میں محفوظ ہوتا ہے۔ تختیاں احترام کا اظہار ہیں، لیکن تہذیبیں تب بنتی ہیں جب نظریات کو پڑھایا جائے، زندہ رکھا جائے اور آگے بڑھایا جائے۔
اس پس منظر میں میدک میں قائم ہونے والی یادگار ایک اہم علامت ہے، مگر یہ صرف ابتدا ہے۔ اس کے بعد اصل ذمہ داری ہمارا انتظار کرتی ہے، وہ ذمہ داری کہ ہم اردو مدارس اور اسکولوں کو وسائل فراہم کریں، اساتذہ کی تعداد اور تربیت بہتر بنائیں، زبان کو عملی اور علمی زندگی میں جگہ دیں، اور نوجوان نسل کو اپنی فکری وراثت کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھنے کا موقع دیں۔ مولا نا آزاد کے لیے سب سے بڑا خراجِ تحسین یہی ہوگا کہ ان کی زبان زندہ رہے، ان کا تصوّرِ تعلیم مضبوط ہو، اور ان کے نظریات معاشرے میں عملی شکل اختیار کریں۔
یادگاریں تاریخ کو محفوظ رکھتی ہیں، لیکن قومیں اُس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ ماضی کو صرف سجاتی نہیں بلکہ سمجھتی اور اس سے رہنمائی لیتی ہیں۔ میدک نے آزاد کی یادگار تعمیر کر دی؛ اب وقت ہے یہ دیکھنے کا کہ ہم اس یاد کو صرف سنگِ مرمر تک محدود رکھتے ہیں یا اسے تعلیمی اداروں، زبان کی حفاظت اور فکری آزادی کے ذریعے حقیقت میں بدلتے ہیں۔ یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی بتا پائیگا۔
اگر آج مولانا آزاد میدک میں کھڑے ہوتے، تو وہ ایک ایسی یادگار دیکھتے جو اُن کے نام کی تو حامِل ہے مگر اُن اصولوں اور نظریات سے خالی جن، کے لیے انہوں نے زندگی بھر جدوجہد کی اور پھر شاید وہ خاموشی سے منہ موڑ لیتے، مایوسی کے ساتھ وہی الفاظ دہراتے جو کبھی انہوں نے لکھے تھے:
"زندگی نہ بھڑک اٹھنے کا نام ہے، نہ بجھ جانے کا — زندگی نام ہے سلگتے رہنے کا۔"
آج یہ ذمہ داری ہم پر ہے، طلبہ، اساتذہ اور شہریوں پر، کہ اس سلگن کو کبھی بجھنے نہ دیں، اس فکر کو زندہ رکھیں، اور اُس جدوجہد کو جاری رکھیں جس نے ایک قوم کو شعور اور راستہ عطا کیا۔
یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور ضروری نہیں کہ سیرت کے مؤقف کی نمائندگی کرے۔ اسے سیرت کے Opinion سیکشن میں مکالمے اور فکری تحقیق کے فروغ کے لیے شائع کیا گیا ہے۔

